Posts

Showing posts from October, 2018
Image
For Get Government jobs vacancies    آسیہ بی بی کیس کی ابتداء ؟ آسیہ بی بی کون تھی ؟؟ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ نورین بی بی پنجاب کے ضلع ننکانہ کے ایک گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی تھیں جو لاہور سے تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔ 2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے دوران مبینہ طور پر انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف ‘تین توہین آمیز’ کلمات کہے تھے۔ استغاثہ کے مطابق اس واقعے کے چند روز بعد آسیہ بی بی نے عوامی طور پنچایت میں خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے معافی طلب کی۔ الزام لگنے کے چند روز بعد آسیہ کو اِٹاں والی میں ان کے گھر سے ایک ہجوم نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد وہ پہلے شیخوپورہ اور پھر ملتان جیل میں قید رہیں۔ جون 2009 میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس میں توہینِ رسالت کے قانون 295 سی کے تحت الزام لگایا گیا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف ‘تین توہین آمیز’ کلمات کہے تھے۔ اہم ملزمہ نے اپنے خلاف مق...
Image
گورنمنٹ آسامیاں خالی ہیں۔دیکھنے کے لیےٴ یہاں کلک کریں۔   ایک زمانہ تھا کہ ہمارے گلی محلوں میں جونکیں لگوانے والے عام پھرا کرتے تھے۔ جسم کے کسی بھی حصّے سے فاسد خون یا پھوڑے پھنسیوں اور زخموں سے غلیظ مواد نکالنا ہوتا‘ تو جونکوں سے بھرپور استفادہ کیا جاتا۔ آج کل پاکستان میں جونک کا یہ مفید استعمال تقریباً ختم ہو چکا مگر بھارت کے کئی علاقوں میں اب بھی بغرض علاج جونک والوں کی خدمات مستعار لی جاتی ہیں۔جونک (Leech)کیچوے کی قریبی رشتے دار ہے ۔کیچوے کی طرح جونک کا جسم بھی چھلوں یا حلقوں میں بٹا ہوتا ہے۔ جونک کی کئی اقسام ہیں ۔ جونکیں تازہ پانی‘ سمندر اور زمین پہ پائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر کا جسم چپٹا ہوتا ہے اور وہ سیاہ‘ سبز یا گندمی رنگ کی ہوتی ہیں۔ جسم سے فاسد خون اور مواد نکالنے کے لیے استعمال ہونے والی ’طبی جونک‘ کا اصطلاحی نام ’’ہیروڈا میڈیسنلیس‘‘ (medicinalis Hiruda ) ہے۔ اس کے سہ طرفہ جبڑے میں چھوٹے چھوٹے بیسیوں تیز دانت ہوتے ہیں۔ وہ جلد میں انھیں گاڑ کر خون چوستی ہے۔ قدرت نے خون چوس جونکوں کے اگلے چھ حلقوںمیں چوسنے والے اعضا (Sucker)لگا رکھے ہیں۔ ان کی مدد سے وہ کس...
Image
گورنمنٹ آسامیاں خالی ہیں۔دیکھنے کے لیےٴ یہاں کلک کریں۔ راجستھان:   بھارت سے یہ حیرت انگیز خبر آئی ہے کہ نشے کے عادی ایک شخص کو جب کسی نشے میں سرور نہ ملا تو اس نے دنیا کے خطرناک ترین سانپ کوبرا سے خود کو ڈسوانا شروع کردیا، اب وہ کوبرا سے اپنی زبان پر ڈسواتا ہے جس سے اس پر نشہ طاری ہوجاتا ہے۔ اس خبر کی تفصیل بھارتی سائنسی رسالے، انڈین جرنل آف سائیکولوجیکل میڈیسن میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوبرا سانپ کا زہر زمین پر طاقتور ترین نیورو ٹاکسن (اعصابی زہر) ہوتا ہے جو 20 انسانوں یا ایک ہاتھی تک کو ہلاک کرسکتا ہے لیکن راجستھان کا رہائشی نشے کےلیے کوبرا سانپ کو بار بار اپنی زبان پر ڈسواتا ہے۔ 33 سالہ نامعلوم شخص نے  15 سال کی عمر میں تمباکو نوشی پھر 18 سال میں شراب پینی شروع کی۔ اس کے بعد وہ طرح طرح کے نشے استعمال کرتا رہا لیکن کچھ وقت بعد اس پر ہر نشہ بے اثر ہوتا رہا اور اس کا سرور جاتا رہا ہے۔ اس کے بعد اس نے کوبرا سانپ کا رخ کیا اور یہ سلسلہ کئی برس سے جاری ہے۔ اپنی نوعیت کے اس منفرد واقعے میں اس شخص کی کوبرا سانپ کی جانب توجہ اس کے ایک دو...
Image
ویت نام:  دنیا بھر میں کئی ہوٹل اور ریستوران ایسے ہیں جہاں آپ اپنے پالتو جانوروں کو لے جاسکتے ہیں یا وہاں موجود جانوروں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔ لیکن اب ویتنام کے ایک کافی شاپ میں آپ جتنی دیر بیٹھے رہیں گے، رنگ برنگی مچھلیاں آپ کے پیروں کو چھوتے ہوئے تیرتی رہیں گی۔ ایمکس کافی، ویت نام کے مشہور شہر ہوچی مِن سٹی میں واقع ہے۔ ہوٹل کے فرش پر چند انچ اوپر تک پانی بھرا ہوا ہے جس میں تیرتی ہوئی سیکڑوں چھوٹی بڑی خوبصورت مچھلیاں تیرتی دکھائی دیتی ہیں۔ لوگ پانی میں اپنے پیر ڈبو کر ایک جانب تو کافی کا لطف اٹھاتے ہیں تو دوسری جانب چھوٹی بڑی مچھلیاں ان کے پیروں پر مساج کرتے ہوئے گزرتی ہیں جس سے انہیں خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ کیفے میں آنے والے مہمانوں سے احتیاط کی درخواست کی جاتی ہے تاکہ کوئی مچھلی پیروں تلے نہ آجائے۔ کرسیوں اور میزوں کے پائے خاص طور پر کپڑے اور روئی میں لپیٹے گئے ہیں جبکہ فرش پر بھی پلاسٹک بچھا کر پانی چھوڑا گیا ہے۔ ریستوران کا ہر فلور 20 مربع میٹر وسیع ہے اور پانی کی اونچائی 25 سینٹی میٹر تک رکھی گئی ہے۔ سارے گاہک پہلے جوتے اتارتے ہیں اور پھر اپنے پیر اچھی طرح ...